Saturday, 19 January 2013



لا الہ الا اللہ

نجاتِ مردم ِ جاں لا الہ الا اللہ
کَلید ِ قفلِ جناں لا الہ الا اللہ

چہ خوفِ آتشِ دوزخ ، چہ باکِ دیوِ لعین
وَرا کہ کرد بیاں لا الہ الا اللہ

1۔نہ بود ملک نہ عالم نہ دورِ چرخِ کبود
کہ بود امن و اماں لا الہ الا اللہ




۔یہ شعر کلید توحید’ کلاں ‘میں اسی طرح درج ہے جیسے اوپر درج کیا گیا ہے مگر محک الفقر ’کلاں ‘شائع شدہ حق باہو منزل میں کچھ یوں درج ہے ۔
نہ بود ملک دوعالم نہ دورِ چرخ کبود
کہ بود دور ِ اماں لا الہ الا اللہ
میرے خیال کے مطابق کلید توحید کلاں میں شامل الفاظ درست ہیں ۔ان الفاظ کے ساتھ اس شعر میں تمام شاعرانہ خوبیاں دکھائی دیتی ہیں ۔معنی آفرینی نظر آتی ہے ۔خاص طور پر پہلے مصرعہ میں ’ملک ‘ کے بعد دوبارہ ’’نہ ‘‘ کے استعمال سے مصرع کی بندش نہ صرف بہتر ہے بلکہ مفہوم کے اعتبار سے بھی شعر ارفع ہو جاتا ہے ۔ اور دوسرے میں جہاں دورِ اماں ‘‘ لگایا گیا ہے اس سے امن و اماں مفہوم میں بھی بہتر ہے اورچونکہ اوپر کے مصرعے میں ’’دورِ چرخ کبود‘‘ موجود ہے اس لئے نیچے پھر دور کا لفظ شاعرانہ حسن کو مجروح کرتا ہے ۔جہاں تک اس شعر کے مفہوم کا تعلق ہے تو وہ اتنا وسیع ہے کہ مجھے اس ایک شعر کا ترجمہ تین اشعار میں کرنا پڑاہے۔مجھ سے پہلے ترجمہ کرنے والوں نے یہاں پر لفظ ’’ملک ‘‘ کا مفہوم فرشتے اور سلطنت کا کیا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ ملک یہاں ملکیت کے مفہوم میں آیا ہے جیسے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا’’
گر ترا بر سر زند سر پیش نہہ ۔آنچہ در ملک است با درویش دہ‘‘۔



لا الہ الا اللہ

نجاتِ خلقتِ جاں لا الہ الا اللہ
کلید ِ باغِ جناں لا الہ الا اللہ

یہ خوفِ آتشِ دوزخ یہ خطرہ ئ ابلیس
وہاں کہاں کہ جہاں لا الہ الا اللہ

بگاڑ سکتی ہے کیا اس کا چرخ کی گردش
ہے جس کی جائے اماں لا الہ الا اللہ

یہ جائیدادِ جہاں کچھ نہیں ہے اُس کے لئے
ہے جس کے دل میں نہاں لا الہ الا اللہ

یہ کائنات یہ عالم نہیں وہاں باہو
جہاں جہاں پہ عیاں لا الہ الا اللہ

اذنِ رسول


فقر دعوت ابتدا و انتہا
ہر یکی واضح شدہ از مصطفی
٭
ہر کہ را رخصت نہ باشد از رسول
معرفتِ حق کی رسد وحدت وصول
٭
دستِ بیعت کرد ما را مصطفی
خوانداست فرزند ما را مجتبیٰ
٭
شد اجازت باہو را از مصطفی
خلق را تلقیں بکن بہر خدا



اجازتِ رسول

راستہ فقر کاآغاز سے آخر تک ہے
ہر جگہ ذات ِ محمد سے مکمل روشن

ہو سکا جس پہ نہ دربارِ رسالت کا کرم
بند اُس کے لئے انوارِ خدا کے درشن

٭

دستِ بیعت مجھے فرمایا محمد نے مرے
اک چنے ہوئے نے چن لیا فرزند مجھے

یہ اجازت شہِ کونین سے باہو کو ملی
خلق کو بہر خدا فقر کی تلقین کرے







چناں کن جسم را در اسم پنہاں
کہ می گردد الف در بسم پنہاں

٭

کردے پنہاں جسم ایسے اسم میں
جس طرح حرف ِ الف ہے بسم میں










دلِ بیدار دہ


یارب از عرفاں مرا پیمانہ ئ سرشار دہ
چشم بینا ، جان آگاہ و دلِ بیدار دہ

ہر سرِ موئی حواسِ من بہ رائی می ردد
ایں پریشاں سیر را در بزمِ وحدت بار دہ

مدتی گفتار کرداری کہ کردی مرحمت
روزگاری ہم بہ من کردار و بی گفتار دہ

شیوہ ئ ارباب ہمت نیست چوں ایں ناتمام
رخصتِ دیدار دادی طاقتِ دیدار دہ

ہر کہ در مردار غرق است کیِ شود دیدار جُو
غیر اللہ ہر چہ باشد دفترش از دل بشو

تا نگردد غرق فی اللہ بے خبر از خود فنا
ہر کہ خود از خود بر آید دل شود رہبر خدا


اس غزل کا مطلع’ کلیدِ توحید ‘﴿کلاں ﴾ میں کچھ یوں درج ہے ۔
یارب از عارفاں مرا پیمانہ ئ سرشار دہ
چشم بینا ، جان آگاہ و دلِ بیدار دہ
چونکہ پہلا مصرعہ بے وزن ہے اس لئے اس پر غور کیا گیاایک بات کی پھر وضاحت کردوں کہ میرا ایمان ہے سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ جس پائے کے شاعر ہیں وہ اوزان کی غلطی نہیں کر سکتے ۔سو پہلے مصرعہ لفظ ’’عارفاں ‘‘وزن کے اعتبار سے درست نہیں ۔ یا تو وہاں ’عارف‘ کا لفظ آسکتا ہے یا ’عرفاں‘ کا ۔ سو بہت سے اہل دانش سے مشورہ کے بعد یہیں قیاس کیا گیا کہ سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں ’’عرفاں‘ کا لفظ لگایا ہوگا






دلِ بیدار بخش


بس مجھے عرفان کا پیمانہ ئ سرشار بخش
چشم بینا دے، خودآگہ کر ، دلِ بیدار بخش

ہر سرِ موئے حواسِ جاں طلبگارِ وصال
اس پریشاں راہ کو اب بزمِ وحدت بار بخش

تُونے برسوں نیکیوں کی گفتگو سکھلائی ہے
اب مجھے کچھ صحبت ِاعمالِ بے گفتار بخش

شیوہ ئ اربابِ جاں رکھتا نہیں میں ناتمام
ہے اجازت دید کی تو طاقتِ دیدار بخش

دل کی تختی سے مٹا دے غیرحق کا ہر نشاں
غرقِ مردہ کو نہ ممکن ’ساعتِ دیدار بخش

ہے فنائے ذات لازم غرقِ فی اللہ کیلئے
خود سے نکلو تو ہے دل ’راہِ وصالِ یار بخش









حقیقتِ یقیں

یقیں از یک پدر یک پیر باشد
دوئی را ازدلِ خود می تراشد

یقیں شد از یقیں تا وقت مُردن
یقیں باطاعت است لب گور بردن

یقیں از دل کشاید راز اللہ
خطی درکش بگرد لا سوی اللہ

یقیں امداد توفیق از الہی
یقیں فیضی دہد فضلش آگاہی

یقیں غرقش بود غیرش نہ بنید
بہ مجلس اولیا اللہ نشیند

یقیں در سجدہ ئ صوم و صلوتش
ز سجدہ کرد حاصل ذکرِ ذاتش

یقیں ہرگز نہ دارد بی شریعت
اگر دعویٰ کند او در طریقت

یقیں با شاہد و مشہود باشد
کہ ہر دم بندگی معبود باشد

بکن طاعت کہ تادم زندہ مانی
یقیں شد بندگی تو یار جانی


یہ مصرعہ ’’یقیں فیضی دہد فضلش آگاہی‘‘ کلیدتوحید ﴿کلاں ﴾ میں یوں درج ہے ۔ ’’یقیں فیض دہد فضلش آگاہی‘‘ میرے خیال میں اس میں ’’فیض ‘‘ کے لفظ کے بعد ی کا ضروری ہے ۔اسی صورت میں یہ مصرعہ وزن میں آتا ہے سو قرین قیاس سمجھ کر ’فیض‘ کو’ فیضی‘ میں بدل دیا ہے ۔کیونکہ یہاں’ ی‘ وزن کے ساتھ ساتھ مفہوم کے اظہار کو بھی بہتر بنا رہی ہے ۔












حقیقتِ یقیں



دوئی سے دور کرے ،عین سے نہال یقیں
کرے بزرگ کی صورت میرا خیال یقیں

اسی سے دل رہیں مشغول تادمِ آخر
ہے بندگی کے مشاغل کا احتمال یقیں

یہ کھینچ دیتا ہے ہر غیر پر خطِ تنسیخ
یہ کھول کھول دے اسرارِ ذو الجلال یقیں

اسی سے آگہی ،توفیق بھی اسی سے ہے
عطا کرے ہے عجب فضل اور کمال یقیں

اسی سے ملتی ہے تقریبِ اولیا میں جگہ
شکست ِغیر یقیں ،منزل ِوصال یقیں


یقیں ہے صوم و صلوۃ و سجود کا چشمہ
ہے ذکر ِذات الہی کا اتصال یقیں

کسی کو شرع سے باہر کہاں نکلنے دے
وہیں وہیں ہے طریقت جہاں جمالِ یقیں

اسی سے شاہد و مشہود دونوں ملتے ہیں
کہ بندگی میں سدا صاحب ِمآلِ یقیں

یقیں کی بندگی محبوبِ رب بناتی ہے
ہمیشہ دستِ عبادت میں رکھ سوالِ یقیں










شرحِ یقیں

عبادت حق بہ بر تا وقتِ مردن
یقیں شد از یقیں ایمان بردن

یقیں قرآن برد اعمال کردن
یقیں آنست کہ خود باحق سپردن

یقیں سرمایہ ئ ایمان نورش
یقیں با معرفت قرب حضورش

یقیں از یک برِ دیگر نباشد
دوئی شیطان را از دل تراشد

یقیں دیدہ بہ چشم خود بہ بیند
کہ صحبت عارفاں با ہم نشیند


یقیں از حق شود حق راز اللہ
خطی در کش بہ گرد سوی اللہ

یقیں بردہ حضوری بی ریاضت
یقیں شد از یقیں صاحب اجازت

کسے را شد یقیں حق بحاصل
رسد حق الیقیں عرفان واصل



یہ مصرعہ کلید توحید﴿ کلاں ﴾میں یوں درج ہے’’ یقیں برد حضوری بی ریاضت ‘‘اس میں ’’ برد‘‘ کے بعد قرین قیاس سمجھتے ہوئے ’’ ہ‘‘ کا اضافہ کیا ہے ۔اگربہ ’’برد‘‘ کے نیچے زیر لگا کر وزن پورا کیا جا سکتا ہے مگر زیر لگانے سے مصرعہ کا مفہوم مجروح ہوتا ہے۔















شرحِ یقیں

موت تک محو رکھے زہد میں ہر آن یقیں
رکھ یقیں پاس کہ ہے علتِ ایمان یقیں

ہے یقیں ذاتِ الہی کے حوالے ہونا
راہِ اعمال یقیں ہے رہِ قرآن یقیں

راستہ قربِ حضوری کا یقیں سے نکلے
نور ِ ربانی کا سرمایہ ئ ایمان یقیں

دل کو یہ غیر کی جانب نہیں جانے دیتا
کاٹ کر پھینک دے ہر دوئیِ شیطان یقیں

صحبتِ عارفاں یونہی تو نہیں مل سکتی
چشم خوش بیں ہے یقیں دیدہ ئ عرفان یقیں

کھینچ دیتا ہے یہی غیر کے اطراف لکیر
رازِ اللہ کا اسرار کشا دان یقیں

بے ریاضت یہی لے جائے حضوری میں تجھے
رکھ یقیں اس پہ کہ ہے اذن کا اعلان یقیں

آدمی دیکھتا ہے چشم الہی سے اسے
بخش دیتا ہے وہ اللہ کا عرفان یقیں

شرحِ یقیں

موت تک محو رکھے زہد میں ہر آن یقیں
رکھ یقیں پاس کہ ہے علتِ ایمان یقیں

ہے یقیں ذاتِ الہی کے حوالے ہونا
راہِ اعمال یقیں ہے رہِ قرآن یقیں

راستہ قربِ رسالت کا یقیں سے نکلے
نور ِ ربانی کا سرمایہ ئ ایمان یقیں

دل کو یہ غیر کی جانب نہیں جانے دیتا
کاٹ کر پھینک دے ہر دوئیِ شیطان یقیں

صحبتِ عارفاں یونہی تو نہیں مل سکتی
چشم خودبیں ہے یقیں دیدہ ئ عرفان یقیں

کھینچ دیتا ہے یہی غیر کے اطراف لکیر
رازِ اللہ کا اسرار کشا دان یقیں

بے ریاضت یہی لے جائے حضوری میں تجھے
رکھ یقیں اس پہ کہ ہے اذن کا اعلان یقیں

آدمی دیکھتا ہے چشم الہی سے اسے
بخش دیتا ہے وہ اللہ کا عرفان یقیں








حق الیقین


یقیں تصدیقِ دل اقرار ازلش
یقیں رہبر شود بافیض و فضلش

یقیں پاکش تعلق روح دارد
چو پاکش شد یقیں با روح آرد

یقیں باشد خلافِ نفس دائم
یقیں با زندگی دل ہست قائم

یقیں در دل نوشتہ حق نظیرش
بہ حق گردد یقیں روشن ضمیرش

یقیں از سہ یقیں از سہ مقامش
ز ہر سہ یک شود ختمِ تمامش











اس مصرعہ میں ’’بہ حق گردد یقیں روشن ضمیرش‘‘’’نہ ‘‘ کے لفظ کو بہ میں بدلا ہے۔یقینا یہ کتابت کی غلطی ہے ۔ نقطہ نیچے لگانے کی بجائے غلطی سے اوپر لگا دیا گیا ہے۔
















حق الیقین


دل کی تصدیق یقیں ، اولیں اقرار یقیں
رہبرِ فیض یقیں ، فضل ِکرم بار یقیں

روح پاکیزہ یقیں سے ہے تعلق رکھتی
جو یقیں پاک ہے وہ روح کا دلدار یقیں

قلبِ آباد فقط کارِ یقیں سے قائم
صرف کرتا ہے سدا نفس سے انکار یقیں

نقشِ حق دل پہ کرے ثبت یقینِ محکم
نورِ حق سے کرے باطن کو پُر انوار یقیں

تین اقسام و مقامات یقیں کے باہو
ایک ہو جائیں تو ہوتا ہے ابد دار یقیں


یقین کے تین اقسام و یقیںیہ ہیں












عین الفقر


فقر دریائی است از توحیدِ نور
کل و جز مخلوق شد از ظہور

دل ز دریائی توحیدش یافتم
غرق ِ توحیدش بہ خود را ساختم

فقر خاص الخاص حق توحیدِ ذات
ہر کہ در فقر ایداو یابد نجات



ایں نہ فقر بر دری گردد خراب
بامحاسب نفس باشد اکتساب

فقر را ہر روز شد ’یوم الحشر
باحسابش عرصہ گاہِ در نظر

باہوا بہر از خدا فقرش نما
فقر وحدت قرب حق شد مصطفی


یوم الحشر کی جگہ لفظ کوئی اور ہے متن کی درستگی کے مراحل میں اس شعر پر بھی کام جاری ہے












عین الفقر


وحدت کا بے کراں اک دریائے نور فقر
کثرت کا جس سے ہوتا رہا ہے ظہور فقر

میں نے اِسی سے پاپاہے اپنا دلِ الست
توحید کا ملا ہے مجھے جس سے نور فقر

توحید ِ ذات کا یہی مخصوص تر مقام
راہِ نجات فقر ہے ، حق کا شعور فقر

یہ فقروہ نہیں ہے جو در در کرے خراب
چشمَ محاسبہ ہے تو فقرِ غیور فقر

ہر آن یہ دکھاتا ہے محشر کی عرصہ گاہ
ہر دن کو بھی بناتا ہے یوم نشور فقر

باہو خدا کے واسطے ہو فقر کی نمود
قربِ وحید فقر ہے قربِ حضور فقر















تیغ ِذکر و تیر فکر و کار زار
نفس کافر قتل کن با ذوالفقار
٭
شد حضوری معرفت از اسمِ ذات
اسمِ اعظم یافتم از ہر آیات
٭
ازاں حرفی بشرف مصطفی است
نوشتہ در دلم سرِ الہ است
٭
ہر کہ دیوانہ شود با ذکرِ حق
زیرِ پایش عرش و کرسی ہر طبق
٭
کشتگاں دیدار دائم با وصال
با جمال و با وصال و لازوال
٭
عاشقاں را زہد و تقوی خلوتی درکار نیست
کار با غم عشقِ وحدت ہر بمنزل می رسد
٭
نماند پردہ زاں سرِ اسرار
کہ عین با عین یار با یار




کلید توحید ﴿کلاں﴾ میںبا تیغ ِذکر و تیر فکر و کار زار ‘‘ یہ مصرعہ یوں لکھا ہوا ہے’’با تیع ذکر دتیر فکر دکار زار‘‘ میرے نزدیک جہاں کتابت کی غلطی سے دال لکھا گیا ہے وہاں وائو ہے اوراس مصرعہ ’کشتگاں دیدار دائم با وصال‘‘سے پہلے ’’باہو‘‘ کا تخلص بھی موجود ہے ۔جسے میں نے نکال دیا ہے کیونکہ وہ عروض کے لحاظ سے مصرعہ میں شامل نہیں ۔کتابت کی غلطی سے شامل ہوا ہے










فکر کے تیروں سے باہو ذکر کی تلوار سے
نفسِ کافر قتل کر تیغِ نبی کے وار سے

اسم ِ اللہ سے ملی وہ حاضری اور معرفت
اسم اعظم مل گیا ہر آیہ کے انوار سے

ہے بشرفِ مصطفی ہر حرف ان کا دل پہ جو
ہیں رقم سرِ الہی ، ہیں رقم اسرار سے

زیرِ پا ہیں عرش و کرسی، زیرِ پا اس کے طبق
وہ جو دیوانہ ہوا ہے کثرتِ اذکار سے

مل گیا ان کو تجلیٰ کا وصالِ لازوال
ہو گئے ہیں قتل جو بھی جلوہ ئ دیدار سے

کارِغم وحدت کالے جاتا ہے منزل پر کہ ہیں
ماورآ عشاق زہد و خلوتِ درکار سے

آخرش باہو ہوا ہے بے حجاب و بے نقاب
عین اپنے عین سے اور یاراپنے یار سے











دولت بہ سگاں دادند و نعمت بہ خراں
من امن امانیم تماشا نگراں
٭
خلاف ِ شریعت بود چشم کور
کہ نورش نہ بنید رسد لب بہ گور
سوال
گر تو مرشد حق پرستی باخدا
کون را بر پشتِ ناخن می نما
جواب
ایں کمینہ مرتبہ کمتر مبین
تا ترا فی اللہ برم حق الیقین
٭
در تصور غرق وحدت بی شمار
نقش با نقاش خوش بیں اعتبار
٭
وحدتِ حق آب ، عارف آبجو
آبجو در آب گم شد آب کو






یہ مصرعہ’’کہ نورش نہ بنید رسد لب بہ گور‘‘ کلید توحید ﴿کلاں ﴾ میں یوں درج تھا۔کہ’’ نورش نہ بنید سدر لب بہ گور‘‘میرے خیال میں کاتب رسد لکھتے ہوئے’’ سدر‘‘ لکھ گیا ہے













تماشا بہ امن و اماں دیکھتے ہیں
جنہیں زر ملا ۔ وہ سگاں دیکھتے ہیں

خلافِ شریعت جو چلتے ہیں اندھے
وہ نورِ الہی کہاں دیکھتے ہیں

یقینا ہیں برحق مرشد وہی
جو ناخن پہ دونوں جہاں دیکھتے ہیں

تصور میں وحدت کے ہم غرق ہو کے
نقوشِ الہ کا سماں دیکھتے ہیں

جہاں جوئے عارف کی تکمیل باہو
وہ وحدت کا آب رواں دیکھتے ہیں







گر تو عارف واصلی صاحب نظر
تو ز شہرگ نزد تر حق را نگر

جو صاحب ِنظر ہیں،جو واصل ہیں ہست کے
شہ رگ سے وہ زیادہ قریں ہے الست کے







مزارِ اولیا

اولیا را قبر ہمچو جسم و جاں
اولیا را قبر در تو خقتہ داں

خفتگاں را قبر از بیدار کن
ہم سخن با ہم کلامی یار کن

دل ز دل سخنی شود با ہمکلام
ایں چنیں سخنش ز الہامی کلام

چوں در آید سخن روحانی بہ دل
اولیایش زندہ جانی زیرِ گل

وقتِ مشکل یاد کن از عہدِ او
طرفہ زو حاضر شود تو بروبرو

صد ہزاراں با موکل گرد گرد
ایں چنیں دعوت بود تاثیر درد

با تو گویم بشنو ای اہل یقین
لاتخف باشد رو جانی تہ زمین

روح بالا عرش قالب زیرِ خاک
احتیاجی نیست روضہِ جان پاک

قبرگم ، گم نام بے نام و نشاں
جثہ را با خود برند صاحب عیاں

باہوا بہ زیں نباشد با شرف
حرف اللہ بس ترا ایں یک الف

اس مصرع ’’حرف اللہ بس ترا ایں یک الف‘‘ میں حرف کا لفظ پہلے اور الف کا لفظ بعد میں لے گیا ہوں کیونکہ یہ وزن میں ایسے آتا ہے ۔یقینا سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ نے ایسے لکھا ہوگا
مزارِ اولیا


استراحت کے شبستاں ہیں مزارِ اولیائ
اولیائ کے جسم اور جاں ہیں مزارِ اولیائ

قبر میں سوئے ہووں کو تُو جگا بیدار کر
ہمکلام و ہم سخن ہو ، گفتگوئے یار کر

دل سخن دل سے کرے ، جاگیں متن الہام کے
یعنی ہم آغوش ہو جائیں سخن الہام کے

دل پہ نازل جب ہو روحانی کلامِ محترم
وہ ولی کا زیرِ گِل صوتِ خرامِ محترم

وقتِ مشکل وعدہ ئ صبحِ تعلق یاد کر
روبرو پھر دیکھ اس کو ، آنکھ میں آباد کر

دیکھنا لاکھوں موکل ہونگے تیرے آس پاس
قبر پہ دعوت میں ایسی درد کی تاثیر ِ خاص

سن ذرا اہل یقیںاک آگہی ہے زیر خاک
لاتخف کی روشنی پھیلی ہوئی ہے زیرِ خاک

روح ہے عرشِ اعلیٰ پر جسم مٹی کے تلے
اولیائ کی جاں مبرائ روضہ ئ انوار سے

قبریں گم ، نام و نشاں بے نام ہیں ، نابود ہیں
جسم بھی ہیں ساتھ ان کے وہ جہاں موجود ہیں

دیکھ باہو یہ شرف کتنا اضافی ہے تجھے
ایک ہی حرف ِ الف اللہ کافی ہے تجھے



مجو آرایش از دل نامرادی تا نظر دارد
کہ نخل ایمن نباشداز تزلزل تا ثمر دارد

زپیران تلاش رزق افزون از جوانان کنند
حرصش گدای شود شام بیشتر دارد

مہماتِ فنا را از علایق نیست پروای
نیند یشد زخار آں کس کہ دامن در کمر دارد

ز ابراہیم ادھم پرس قدر ملک درویشی
کہ طوفاں دیدہ از آسایش ساحل خبردارد
٭
مکش رو در ہم از حکم قضای می کشی پردا
نہ پروا آتش از چین جبینِ بوریا دارد

زپیران تلاش رزق افزون از جوانان کنند۔ یہ مصرع ’’قربِ دیدار میں یوں درج ہے ’’پیران تللاش رزق فزوں از جوان کنند‘‘ اور اس مصرع مہماتِ فنا را از علایق نیست پروای‘‘ میں مہمات کی ت میں نے ڈالی ہے ۔



ہمیشہ اپنے دل کی نامرادی پر نظر رکھنا
درختوں کیلئے ممکن نہ آندھی میں ثمر رکھنا

تمنا رزق کی اتنی جوانوں میں نہیں ہوتی
مزاج پیر ، وقتِ شام، حرص ِ بیشتر رکھنا

مہماتِ فنا کی پھر کوئی پروا نہیں ہوگی
بچائو خار سے ، دامن کمر سے باندھ کر رکھنا

براہیمِ ادھم سے پوچھ قدر ملک ِ دوریشی
ہے طوفان کی نظر سے رنگِ ساحل کی خبر رکھنا

نہ پردہ کر ،نہ رو گردانی کر حکم ِ قضا سے تُو
نہیں آتش کو زیبا غیظِ خس کا کچھ اثر رکھنا




ترانہ ئ عشق


گر سوختم دم کی زنم
نی بلبلم نعرہ کشم
در آتشی پروانہ ام
در عشق او پروانہ ام
از جان خود بیگانہ ام



ہر منتہی آغازِ من
کس نیست محرم راز من
مگسی کجا شہباز ِ من
در عشق او پروانہ ام
از جان خود بیگانہ ام





کونین واصل یک قدم
اللہ بس مارا چہ غم
ایں نفس را گردن زنم
در عشق او دیوانہ ام
از جان خود بیگانہ ام



زاہد کجا بس دور تر
از وصل عاشق بی خبر
ایں مدعی اندر دہر
در وحدتش پروانہ ام
از جان خود بیگانہ ام



از عرش بالا جاہِ من
شد وحدت اندر راہِ من
ای بشنوی دل خواہِ من
در آتشی ہم خانہ ام
از جان خود بیگانہ ام



ایں علم را از دل بشو
با شوق اسم اللہ بگو
در وحدتش شو آبجو
من جاں با جانانہ ام
از جان خود بیگانہ ام





ای عالماں علمش بخر
ایں جاہلاں گا و خر
جزعشق حق دیگر مبر
در عشق او پروانہ ام
از جان خود بیگانہ ام




باہو با یاہو یار شد
چوں بخت من بیدار شد
باہم نشیں دلدار شد
در عشق او پروانہ ام
از جان خود بیگانہ ام





ترانہ ِ عشق

جلوں تو حرف ِ خاموشانہ ہوں میں
نہ شورِ بلبلِ مستانہ ہوں میں
خداکے عشق میں پروانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں




ہوئی ہر انتہا آغاز میرا
نہیں ہے کوئی بھی ہم راز میرا
مگس سا کب پرِ پرواز میرا
نہیں ہمسر کوئی شہباز میرا
خدا کے عشق میں پروانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں





مجھے دونوں جہاں بس اک قدم ہے
مجھے اللہ ہے کافی ، کیسا غم ہے
کہاں ان نفس امارہ میں دم ہے
مرے اللہ کا یہ بھی کرم ہے
خدا کی عشق میں دیوانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں




یہ زاہد تو خدا سے دور تر ہیں
یہ وصلِ عاشقاں سے بے خبرہیں
یہ دعوی دار تو شوریدہ سر ہیں
مثالِ خاک بس یہ خاک پر ہیں
فقط وحدت کا ہی پروانہ ہوں میں
خدا کے عشق میں دیوانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں



ہے بالا عرش سے رتبہ بھی میرا
کہ وحدت ہے فقط رشتہ بھی میرا
ہے چاہت ذات کی رستہ بھی میرا
تُو سن لے اب ہے یہ نعرہ بھی میرا
سراپا آگ ہوں مستانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں



یہ کالے حرف اپنے دل سے دھو دے
سب عشق وشوق اسمِ ذات کودے
تُو خود کو بحرِ وحدت میں ڈبو دے
جو دریا کو ہے مطلوب وہ دے
میں اپنی جان کا جانانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں






اے عالم علم سے صرفِ نظر کر
اسے بس وقفِ جہلِ گائو خر کر
ہے دیگر جو بھی تُو اس سے مفر کر
سوائے عشق حق ،سب سے حذر کر
خداکے عشق میں دیوانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں




میں باہو ہوں کہ یاہو یار میرا
یہی میں ہوں یہی اظہار میرا
کچھ ایسے طالع ئ بیدار میرا
کہ میرا ہم نشیں دلدار میرا
خدا کے عشق میں پروانہ ہوں میں
خود اپنی ذات سے بیگانہ ہوں میں




نیست آنجا ازل و ابد نیست دنیا بہشت
آں مکاں لامکاں است دیدار ازآں سرشت
٭
بے سر بینم خدا مثلش کجا
زاں ِ مقام ِ خود نہ وصلش کجا
٭
نگہدار دم را کہ عالم ومیست
دمے پیشِ دانا بہ از عالمیست
٭

تو عین تجلائی تجلی مجو
با سر تجلی تو شوی عین او
٭
نور ز نورش بہمہ شد ظہور
ہر چہ بہ بینی او از و گشتہ نور
٭
آں نور تجلی بموسیٰ کوہ طور
عین عیاں است مرا حق ظہور
٭
آں نور ِ تجلی بموسی کوہ طور
عین عیاں است مرا حق ظہور
٭
ہر کہب بیند روئے فقرش صبح و شام
آتشِ دوزخ برو گردد حرام







یہ شعر ’’عین الفقر میں یوں درج ہے ۔نیست آنجا ازل و ابد نیست دنیا نہ بہشت ۔آں مکاںاست لامکاں دیدار از سرشت







ازل زمیں نہ ابد آسماں دکھائی دے
یہی مکاں ہے جہاں لامکاں دکھائی دے

مثال کیسی کہ دیکھوں اسے تو خود نہ رہوں
مجھے وصال خدا کا کہاں دکھائی دے

خیال سانس کا ہر دم کہ قیمتی اتنا
کہ اس سے چشم کو کمتر جہاں دکھائی دے

تُو جستجوئے تجلیٰ نہ کر ، تجلیٰ تُو
جہاں تُو ، عین تجلیٰ وہاں دکھائی دے

اسی کے نور کے انوار کا ظہور تمام
اسی کا نور ہے جو کچھ جہاں دکھائی دے

جو کوہِ طور پہ موسی کی آنکھ نے دیکھا
وہی ظہور مجھے بھی عیاں دکھائی دے

حرام اس پہ جہنم کی آگ ہے باہو
کہ روئے فقر کا جس کو سماں دکھائی دے














تاتوانی خویش را از خلق پوش
عارفانی کی پسندند خود فروش
٭
ذکر خفیہ دمبدم شد حق رفیق
غوطہ خوردن را ز رحمت حق غریق
٭
دل یکی چوں نظر گاہ ربانی
خانہ ئ دیو را چہ دل خوانی
٭
گر بشوقِ حق دلت شد مبتلا
مرگ ہرگز کی شود بر وی روا
٭
طالباں را بس بود ایں راہ بند
راہِ مرداں شد حضوری ہوشمند




عارف پسند کرتے نہیں ، خود فروش رہ
ممکن جہاں تلک ہے کہیں پردہ پوش رہ

وحدت کی موج موج میں اُتنا قیام کر
ذکرِ خفی کے سانس میں جتنا خموش رہ

ابلیس پھر رہا ہے مکاں کی تلاش میں
اے دل حریمِ چشم کا حلقہ بگوش رہ

اطلاق تاکہ موت کا تجھ پر نہ ہو سکے
اے مبتلائے حق تُو تجلی بدوش رہ

تُو مرد ہے تو اتنی نصیحت بہت تجھے
بزمِ خدا میں صاحبِ تمکین و ہوش رہ



علمِ معرفت


لوح محفوظ است لوح از دل رقم
ایں مطالعہ عارفانِ علم ختم

ہر کرا ذکرش کشاید روح و دل
از وجودش می برآید ہر جہل

جاہلاں را سخت علمی از خدا
بر ہوائی نفس گویند سر ہوا

جعل جاہل خوارتر سرگیں ببر
فعل از خود ، خود بمیرند بے خبر

طالب مولا بود طالب ز علم
اہل عالم را نباشد ہیچ غم

با خبر شیطاں و ز نفس بکثف
عارفاں را شد مقامی در بہشت

علم مونس یار با غم خوار بر
عالمان را علم بہ از سیم و زر




یہ مصرعہ ’’بر ہوائی نفس گویند سر ہوا ‘‘کلید توحید ﴿کلاں﴾ میں ’’بدہوائی نفس گویند سر ہوا‘‘ درج ہے جو میرے نزدیک کتابت کی غلطی ہے۔اوراس مصرعے میں’’ جعل جاہل خوارتر سرگیں ببر‘‘ سرگیں کی بجائے ’’سرگس‘‘ لکھا ہوا ہے ۔قرین القیاس یہی ہے کہ یہاں ’’سرگین کا لفظ ہے ۔اور یہ مصرعہ ’’طالب مولا بود طالب ز علم‘‘یوں در ج ہے ’’ طالب مولا بود طلب ا ز علم‘‘ میرے نزدیک یہ بھی کتابت کی غلطی ہے۔اس مصرعہ ’’عارفاں را شد مقامی در بہشت‘‘ میں’’مقامی‘‘ کی نجائے’’ مقام‘‘ لکھا گیا ہے جسے مقامی بدل دیا ہے





علمِ معرفت

چشمِ باہو پہ اتر آیا فلک پر لکھا
لوحِ محفوظ پہ جو درج تھا دل پر لکھا

روح و دل کھل اٹھے بس ذکر کی برساتوںسے
مٹ گیا جہل کہ تھا حرفِ مکرر لکھا

نفس کا بندہ ہے وہ رب کا نہیں ہوسکتا
جس کے باطن میں ہے تاریک سا منظر لکھا

بے خبر لوگ ہیں مرجائیں گے بیخبری میں
یعنی گبریلے کی قسمت میں ہے گوبر لکھا

علم لکھا ہے جہاں غم نہیں لکھا اور بس
طالبِ حق کیلئے علم کا جوہر لکھا

نفس و ابلیس کو جو مارتے ہیں اہل خبر
ان کی تقدیر میں ہے باغِ منور لکھا

علم غم خوار بھی دلدار بھی مونس بھی ہے
سیم و زر سے اسے ہر ہاتھ نے بہتر لکھا











ہر کہ از خود گم شود بیند چہ چیز
نور با نورش رسد ای بی تمیز

ہر کہ از خود گم شود از خود فنا
باخدا وحدت رسد گردد بقا

ہر کہ از خود گم شود آنجا چہ ہست
در مقالی غرق وحدت با الست
٭
نفس و شہوت را بہ کش کلی ہوا
تا ترا حاصل شود واحد خدا
٭
ہر کہ از منکراست مردود شد
ہر کہ با حق مشتغل محمود شد



دیکھتا کیا کچھ اور بھلا ہر خود گم کردہ
نور میں مل کر نور ہوا ہر خود گم کردہ

اس کے چاروں اور بقا پھر وحدت والی
جب ہو جاتا ہے آپ فنا ہر خود گم کردہ

مست الست وہی ہوجاتا ہے وحدت میں
پا لیتا ہے جسمِ بقا ہر خود گم کردہ

نفس و شہوت ، حرص و ہوا سے ہوکے منزہ
حاصل کر لے ایک خدا ہر خود گم کردہ

حق کا منکر جو بھی ہوا مردود وہ باہو
حق میں بس مشغول رہا ہر خود گم کردہ


ازل تا ابد

در تجلی ذات سوزم سر بہ سر سرِ الہ
ایں تجلی ذات راہبر با خدا راہے نما
٭
از ازل تا ابد بودم غرقِ نور
از ازل تا ابد باشم باحضور

از ازل تا ابد بودم مست حال
از ازل تا ابد دائم با وصال

از ازل تا ابد از خود شد جدا
از ازل تا ابد بودم باخدا

خلق وہم است جاں ز جاںقالب قلب
جاں از جاں می بر آید رازِ رب

ازل تا ابد

تجلی میں سرِ الہ کی جلا از ازل تا ابد
اسی سے خدا کا ہے رستہ کھلا از ازل تا ابد

مسلسل مری حاضری اس کے دربار میں ہے
میں دریائے انوار میں گم رہااز ازل تا ابد

مجھے ایک مستی ملی خاتمہ جس کا کوئی نہیں
مجھے اک وصال ِمکمل ملااز ازل تا ابد

ازل تا ابد ساتھ اللہ کی ذاتِ اقدس رہی
رہا ہوں میں روح و بدن سے جدازا ازل تا ابد

نکلتا ہے قالب سے جب قلب ، جاں سے یہ جاں باہوا
ملے رازِ رب کا حسیں سلسلہ از ازل تا ابد

بانفس پلیدد۔۔۔جامہئ پاک چہ سود
در دل ہمہ شرکی سجدہ بر خاک چہ سود
٭
خیال خواندن چندیں کتب چراست ترا
الف بس است اگر فہم ایں و آ نست ترا
٭
دل کہ ز اسرار خدا او غافل است
دل نیاید گفت کاں مشت گل است
٭
طالبِ مولا بود در غرقِ نور
بگذرد از دنیا و حور و قصور
٭
گرا ترا علم است حلم است یا دانش عظیم
بے وسیلت می رساند مر ترا راہے رجیم
کلید توحید کلاں میں یہ شعر یوں درج ہے۔نفس پلیدد جامہ پاک چہ سود۔در دل ہمہ شرک است سجدہ بر خاک چہ سود۔ ۔میں نے اس شعر کو توفیق ہدایت سے لیا ہے ۔عین الفقر میں یہ شعر کچھ یوں درج ہے ’’باہو نفس پلید بر تن جامہ ِ پاک چہ سود۔۔در دل ہمہ شرک است سجدہ بر خاک چہ سود۔‘‘


جسم ِ ناپاک پر جامہ ئ پاک بے فائدہ
دل میں ہو غیر تو سجدہ ئ خاک بے فائدہ

صاحبِ فہم ہو توتمہیںاک الف کافی ہے
یہ کتابوں بھرا عقل و ادراک بے فائدہ

وہ جو اسرارِ ذاتِ الہی سے غافل ہوا
مشت مٹی کی وہ ،قلبِ نمناک بے فائدہ

طالبِ حق فقط غرقِ نورِ الہی رہے
یہ قصوریں یہ حوریں یہ املاک بے فائدہ

اس میں ملعون ہونے کا خدشہ ہے امکان ہے
بے وسیلہ ترا علمِ افلاک بے فائدہ



از ہر عبادت بہ مرا نیمی نگاہ
1آں از کرامت نہی قدمی درہوا
٭
دل پریشان و مصلیٰ در نماز
خاک بادا ایں چنیں دل با نیاز
٭
اندروں تو میبر آید ہر آواز
با آوازش می رساند اہل راز
٭
باہوانفس را رسوا کنم بہر از خدا
بر ہر دری قدمی زنم بہر از گدا

1۔یہ مصرعہ یوں درج کیا گیا ہے ’’آنکہ از کرامت نہی قدم در ہوا‘‘اس میں میرے نزدیک ’’کہ‘‘ کتابت کی غلطی سے در آیا ہے ۔ سومیں نے ’’کہ ‘‘ کا لفظ مصرعہ سے نکال دیا ہے ۔باہو کا لفظ نکال دیا۔اور یہ شعر محک الفقر شائع شدہ حق باہو منزل میں یہ یوں ددرج ہے۔’’باہونفس را رسوا کند بہر از گدا۔۔ بر ہر دری قدمی رود بہر از خدا‘‘محک الفقرالعافین پبلیشر؛صفحہ نمبر ۲۰۳ پر یوں لکھا ہے ’’نفس را رسوا کند بہر از خدا ۔بر ہر دری قدمی زند بہر از خدا‘‘یہ دونوں متن وزن اور مفہوم دونوں حوالوں سے درست نہیں اس لئے جو قرین القیاس ممکن تھا میں نے درج کیا ہے۔




آگاہ کروں تجھے میں عبادت کے راز سے
بہتر کسی کی نیم نگاہی نماز سے

یہ جو میں چل رہا ہوں ہوا پر، یونہی نہیں
یہ مرتبہ ملا ہے کسی چشمِ ناز سے

وہ جو مصلے پر بھی پریشاں نماز میں
ملنی ہے خاک ، ایسے دلِ با نیاز سے؟

آواز جو سنائی دے دل کے سکوت میں
تجھ کو ملا رہی ہے یہی اہلِ راز سے

باہو خدا کے واسطے جاتا ہوں در بہ در
رسوا کروں میں نفس کو دستِ دراز سے




مدح حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ

شفیع ِ امت و سرور بود آں شاہ ِ جیلانی
تعالی اللہ چہا قدرت خدایش کرد ارزانی

سکندر می کند دعویٰ کہ ہستم چاکرِ آں شاہ
فلاطوں پیش علم او مقر آمد بہ نادانی

کلاہ داران ِ ایں عالم گدایانِ گدائی تو
ُترا زبید ُترا زبید کلاہ داری و سلطانی

گدا سازی اگر خواہی بہ یک دم پادشاہاں را
گدایان را دہی شاہی بہ یک لحظہئ بہ آسانی




1۔گدائی در گہت خاقاں، غلاماں دارا و قیصر
چہ عالی شان سلطانی الا ای غوثِ ربانی

بایں حشمت بایں شوکت بایں قدرت بایںعظمت
نبوداست و نخواہد بود الحق مثلِ تو ثانی

چہ ناسوتی چہ ملکوتی چہ جبروتی چہ لاہوتی
ہمہ در زیر پائی تو چہ عالی شان سلطانی

حقیقت از تو روشن شد، طریقت از تو گلشن شد
سپہر شرع را ماہی زہی خورشید ِ نورانی


1۔اس مصرعہ سے لفظ ’’حضرت ‘‘نکال کر’’وہاں ’’ دارا ‘‘کالفظ لگایا ہے





ز باغ اصفیا سروی ز بزم مصطفی شمعی
علی را قرۃ العینی بدیں محبوب سبحانی

دلا گشتی مریدِ او، بہ بیں لطفِ مزیدِ او
چہ اوصافِ حمیدِ او ، گہہ و بے گاہ می خوانی

زباں را شست شو باید بہ آبِ جنت الکوثر
وزاں نامِ محی الدیں ، بہ پاکی بر زباں رانی

بزرگ و خورد و مرد وزن مریدت شد ہمہ عالم
مشائخ را بود بر درگہت از فخرِ دربانی



یہ مصرع ’’مشائخ را بود بر درگہت از فخرِ دربانی ‘‘ کلید توحید ﴿کلاں ﴾ میں یوں در ج ہے ۔مشائخ را بنردبر درگہت از فخرِ دربانی ‘ میں نے ’’ نرد ‘‘ کا لفظ نکال کر ’’ بود ‘‘ لگایا ہے





مطیع حکم تو دیواں ملائک چوں پری بندہ
شہنشاہِ شہنشاہاں امامِ انس و روحانی

چہ عبدالقادری قدرت ازاں داری کہ یک لحظہئ
بر آری آشکارا از کرم حاجات پنہانی

بہ دنیا دُر عدن بخشی بہ عقبیٰ جنت الماویٰ
بہ رحمت بحرِ الطافی ز شفقت کانِ احسانی

ملاذا دستگیری تو معاذا دل پذیری تُو
بہ لطف خود رہائی دہ ز گردابِ پریشانی












جگر ریشم درون خستہ، دل اندر لطف تو بستہ
توہم از غایتِ احساں دوا بخشی و درمانی

ترا چوں من ہزاراں بند ہا ہستند در عالم
مرا جز آستانت نیست اگر خواہی و گردانی

ندارم اندریں عالم بہ جز درد و غم و شدت
خلاصی دہ ازیں محنت کہ دارم صد پریشانی

منم سائل بجز تُو نیست غمخوارم کہ گیرد دست
بہ رحمت کن نظر بر من تُوئی مختارِ سبحانی







سگِ درگاہ ِ جیلاں شو چو خواہی قربِ ربانی
کہ بر شیراں شرف دارد سگِ دربار جیلانی

قفائی بندہ ئ عاجز فتادہ برسر کویت
عجب نبود اگر ایں ذرہ را خورشید گردانی










توصیفِ حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالی عنہ


امیر و شافع ئ امت جنابِ شاہ جیلانی
زہے قسمت کہ رب نے دی ہے قدرت کی فراوانی

سکندر بھی کرے دعوی کہ میں ہوں آپ کا نوکر
فلاطوں بھی کرے ہے اعتراف ِفہم نادانی

جہاں کے کج کلاہ تیرے گداوں کے گدا گرہیں
فقط زیبا تجھے ،زیبا تجھے ،شاہی و سلطانی

اگر چاہے تو دم بھرمیں گدا کردے تُوشاہوں کو
گداکو بادشاہ کردے ،بہ یک لحظہ ئ باآسانی




گدائے در ہوئے خاقاں، ہیں چاکر دارا و قیصر
یہ عالی شان سلطانی عجب اے غوثِ ربانی

جو ہے حشمت ، جو ہے شوکت جو ہے قدرت جو ہے عظمت
نہ تھی پہلے کسی کی اور نہ ہوگا پھر کوئی ثانی

یہ ناسوتی یہ ملکوتی یہ جبروتی یہ لاہوتی
یہ سب ہیں زیر پاتیرے عجب ہے تری سلطانی

حقیقت تجھ سے روشن تر ،طریقت تجھ سے کھل اٹھی
زہے شرع ِ فلک کے مہ ،زہے خورشیدِ نورانی









تُو باغِ اولیائ کا سرو،شمعِ بزمِ بنوی تُو
علی کی راحتِ جاں تُو، تُو ہے محبوبِ سبحانی

دلا ان کی مریدی سے ملے لطفِ مزید ان کا
کر اوصافِ حمیدہ کی مسلسل منقبت خوانی

تُو لا نامِ محی الدین اس کے بعد ہونٹوں پر
جا پہلے چشمہ ئ کوثر پہ دھو اپنی زباں دانی

مریدِ باصفا تیرے بزرگ وخورد و مرد وزنخطا پوشی تری عادت خطا پوشی ، عمل تیرا جہاں بانی

تْو شاہ اولیا ہے، اولیا محتاج تیرے ہیں
مشائخ کیلئے ہے فخر تیرے در کی دربانی







فرشتے ، دیو اور پریاں،جن و انساں بھی تایع ہیں
شہنشاہِ شہنشاہاں امامِ انس و روحانی

تُو عبدالقادراسمِ با مسمی ، ہے تجھے قدرت
تُوہی پوری عیاں کر کے کرے حاجاتِ پنہانی

عدن کے موتی دنیا میں دئیے عقبیٰ میںجنت دی
سمندر لطف کے بخشے ، عطا کی کانِ احسانی

پناہ ہے دستگیری میں تسلسل دل پذیری میں
کرم مجھ پر کہ گھیرے ہے یہ گردابِ پریشانی










جگر مجروح ،خستہ روح، دل تیرے کرم پہ ہے
ترے احسان کی غایت دوا بخشی و درمانی

جہاں میں میرے جیسے تو ہزاروںبندے ہیں تیرے
نہیں تجھ بن کوئی میرا، تری مرضی ہے ربانی

نہ حاصل اس جہاں سے کچھ بجز درد و غم و شدت
خلاصی دے یہاں سے یاں ملی بے حد پریشانی

میں سائل ہوں بجزتیرے کہاں غم خوار ہے کوئی
نظر رحمت کی کر مجھ پر کہ تُو مختارِ سبحانی










جو چاہے قربِ ربانی سگِ درگاہ ِ جیلاں ہو
شرف شیروں پہ رکھتا ہے سگِ دربار جیلانی

یہ ادنیٰ بندہ ئ عاجز پڑا ہے تیرے کوچے میں
عجب کیا ہے کہ ذرے کو ملے سورج کی تابانی

















ہرمریدش آفتاب ِ روشنی ئ حق نما
فیض بد ہد فیض بخشد برد حاضر مصطفی

رازِ رحمت فیض فضلش می دہاند از خدا
بی نصیبی کس نہ باشد باہو دل صفا

٭

ہر مرید ان کا طلوعِ حق نما کی روشنی
مجلس ِ نبوی میں بخشے ، فیض ان کا ، حاضری

رازِ رحمت دے خدا کے فیض دے پیرانِ پیر
بے نصیبی ہو وہاں کیسے ، کہے باہو فقیر







طور سینا چیست دانی بی خبر
طورِ سینا سینہ ئ خود را نگِر

ہمچو موسیٰ مست شو برطورِ خویش
رب ارنی گو تجلی حق نَگر

٭

طور سینا ڈھونڈھ مت اے بے خبر
طورِ سینا تْو ہے، اپنا سینہ دیکھ

مثلِ موسی طورِ جاں کا مست بن
رب ارِنی کہہ کے حق کا جلوہ دیکھ







رزق اگر بر آدمی عاشق نمی بودی چرا
از زمیں گندم گربیاں چاک می آمد بروں

رزق گر انسان پر عاشق نہ ہوتاتو بھلا
خاک سے گندم نکلتی ایسے سینہ چاک کیوں


٭

شبنم نہ کرد داغ دلِ لالہ را علاج
نتواں بہ گریہ شست خطِ سرنوشت را

شبنم کرے نہ داغِ دلِ لالہ کا علاج
مٹتا نہیں ہے رونے سے تقدیر کا لکھا




از سیہ کاراں امیدِ توبہ جرمِ دیگر است
جامہ ئ خود را ہماں بہتر نشوید گلخنی

سیہ کاروں سے توبہ کی امید اک جرمِ دیگر ہے
لباسِ ذات کا بہتر ہے آتش گاہ میں دھْلنا

٭

حق دانم ، حق بینم ، حق گویم حق حق
حق درمن ،من در حق ،حق ہستم حق حق

میں حق جانوں ، میں حق دیکھوں میں حق بولوں میں حق حق
وہ حق میں میںیہ حق مجھ میں ، میںحق ہی ہوں میں حق حق


1۔ ہستم کا لفظ لگایا ہے۔قرین القیاس یہی ہے یہاں اس سے پہلے کوئی لفظ نہیں تھا




رفتن بدہ



اے مرد ایں میداں بیا
گر سر رود رفتن بدہ
با عشق در میداں بیا
گر سر رود رفتن بدہ

درکنج با جاناں نشیں
گر عاقلی گم شو دریں
عشاق را مردن ہمیں
گر سر رود رفتن بدہ

امروز آں روزی مگر
گر جان بر خیزد ز تن
ہر گز نہ تابم رُو دگر
گر سر رود رفتن بدہ

در عشق چوں پروانہ شو
ازجان خود بیگانہ شو
شادی کناں مردانہ رو
گر سر رود رفتن بدہ





1۔ اس نظم کے پہلے تین بندمحک الفقر کلاں شائع شدہ حق باہو منزل لاہور میں صفحہ نمبر154پر درج ہیں اور چوتھا بند اسی کتاب کے صفحہ نمبر530پر لکھا ہوا ہے ۔





جانے دے


اے مرد آ میداں میں آ
جاتا ہے سر تو جانے دے
آ عشق کے میداں میں آ
جاتا ہے سر تو جانے دے

اک کنج میں جاناں کیساتھ
ہے عقل تو گم رہ یونہی
عاشق کا مرنا ہے یونہی
جاتا ہے سر تو جانے دے



ہرگز نہ دیکھوں دوسرا
وہ دن ہے یہ ،جائے نکل
جاں جسم سے ،چاہے نکل
جاتا ہے سر تو جانے دے


آ عشق میں پروانہ بن
آ خود سے بھی بیگانہ بن
اصلی خوشی مردانہ پن
سرجاتا ہے تو جانے دے









دلِ زندہ شود ہرگز نمیرد
دلی بیدار شد خوابش نگیرد

چرا در زندگی با دل نہ کوشی
چرا زیں شربتِ شریں نہ نوشی

٭

دل ِزندہ کبھی مرتا نہیں ہے
وہ جاگ اٹھے تو پھر سوتا نہیں ہے

نہیں کیوں زندگی میں دل کی خواہش
تُو میٹھا پانی کیوں پیتا نہیں ہے





از خود گذر کن طالبا رو غرقِ نور
احتیاجی نیست وصلش با حضور

بی وصل دانی چہ شد شرک و ہوا
از ہوا و شرک طالب باز آ

٭

گزر کر ذات سے بس غرق ہوجا ،نور میں طالب
حضوری کو وصالوں کی کبھی حاجت نہیں ہوتی

بجزوصل ِخداعرفان بس شرک و ہوا ہے اور
کسی طالب کی شرک و نفس سے صحبت نہیں ہوتی



بی وصل دانی چہ شد شرک و ہوا









شد مطالب طلب طالب رازِ حق
زیرِ پا یش عرش و کرسی ہر طبق

مرشدی باشد چنیں رہبر خدا
طالباں را باز دارد از ہوا

باہوا خود مرشدی خود طالبی خود جاں فشاں
طالبِ حق را نیابم درجہاں صاحب عیاں











طلب میں راز ِحق کی جب مطالب پاگیا طالب
تو عرش و کرسی و ارض و سما سب زیرِ پا آئے

اک ایسا مرشدِ کامل ضروری راہ ِحق میں ہے
ہوائے نفس سے جو طالبوں کو باز رکھ پائے

ہے خودمرشد ،ہے خود طالب ،ہے خود ہی جاں فشاں باہو
کسی سالک پہ دنیا میں نہیں ایسا عیاں باہو




’’صاحب عیاں‘‘کی ترکیب اس مصرعے میں کلید تو حید خورد میں ہے مگر وہاں او پر مصرعہ درست نہیں ۔اور کلید توحید کلاں میں اس شعر میں ’’صاحب عیاں ‘‘ نہیں موجود ‘‘







ہر کہ طالب با مطالب خویشتن
ہر کہ دعویٰ کرد طالب لاف زن

ہر کہ طالب حق بود من حاضرم
1۔ ابتدا تا انتہا یک دم برم

جوطالب ذات کا طالب وہ قہقہ زن طلب پرہے
وہ طالب ہی نہیں حق کا،میں اس کے کام کیا آئوں

جو طالب حق کا طالب ہے میں اس کے واسطے حاضر
اسے میں ابتدائ سے انتہا تک دم میں لے جائوں




اس مصرع ’’ابتدا تا انتہا یک دم برم‘‘ سے پہلے ’’ ز ‘‘ تھا جسے میں نے کاٹ دیاہے





جای کہ من رسیدم امکاں نہ ہیچ کس را
شہباز لا مکانم آں جا نہ جا مگس را

عرش و قلم و کرسی کونین را ، نیابد
افرشتہ ہم نہ گنجد آں جا نہ جا ہوس را


پہنچا جہاں پہ میں ہوں ہستی نہ خار وخس کی
شہبازِلامکاں میں، اِس جا نہ جا مگس کی

عرش و قلم و کرسی ، کونین رہ نہ پائیں
قدسی نہ جا سکیں واں ، واں جا کہاں ہوس کی











صحبتِ مردِ خدا یک ساعتی
بہتر از صد سال تقوی طاعتی


سو سال کے تقوی اور اطاعت سے باہو
دم بھر کو بہتر ہے مرد ِ خدا کی صحبت








دلی با کعبہ شد قبلہ حاجات
بہ قبلہ سجدہ از بہرِ حق ذات
٭
دل کعبہ اعظم است بکن خالی از بتاں
بیت المقدس است مکن جائی دیگراں
٭
طواف ِ کعبہئ دل کن اگر دلی داری
دل است کعبہ اعظم تو گِل چہ پنداری
٭
دل کعبہ اعظم است از آںکعبہ آب و گل
آں صد ہزار کعبہ بود درمیانِ دل






قبلہ ئ حاجات دل ہے کعبہِ اعظم ہے دل
کر ادھر کر حق کو سجدے کعبہِ اعظم ہے دل

اپنے پاکیزہ مکاں میں غیر کو رہنے نہ دے
خالی رکھ اس کو بتوں سے کعبہِ اعظم ہے دل

دل اگر سینے میں ہے تو اس کو مٹی مت سمجھ
کر طواف اپنے ہی دل کے کعبہِ اعظم ہے دل

ایسے لاکھوں کعبے ہیں موجود باہو دل کے بیچ
آب و گِل کا کعبہ کیا ہے کعبہِ اعظم ہے دل








کسے پرسد فقیرے توچہ نام است
برو از حق بپرسی لامکان است

پوچھا کسی نے نام تو درویش نے کہا
جس کا کوئی مکاں نہیں جا اس سے جا کے پوچھ

تا نہ زنی تیغِ دو دستی بسی
ملک بہ میراث نہ یابد کسی

تیغ دو دستہ کا رکھ کارِ مسلسل باہو
ملک میراث سے ہوتے نہیں حاصل باہو





خشم و شہوت بہ زیرِ پائی تودار
تا شوی از حیاتِ بر خوردار

روند دے پائوں تلے غصہ و شہوت کا وجود
تاکہ تیری زیست کو اقبال مندی مل سکے

از گناہِ نیم سوزش آہ ِ من
درمیانِ کفر و ایماں راہ ِ من

اک گناہ ِ ادھ جلے سے ہے عبارت میری آہ
درمیانِ کفر و ایماں راستہ رکھتا ہوں میں




ہر ز قطرہ دعوی کردند من بہ دریا یافتم
چوں عین دریا یافتم خود گم بہ دریا ساختم

ہے ہر قطرے کا دعوی، پا لیا دریا
ہوا دریامیں گم میں تو ہوا دریا






یہ مصرع یوں لکھا ہوا ہے’’ ہر یکی از قطرہ دعوی کرد من بہ دریا یافتم‘‘ محک الفقرشائع شدہ حق باہو منزل میں۔میرے نزدیک یہ درست نہیں ہے ۔اورزان کے اعتبار سے ،سو میں نے ’’ہریکی از ‘‘ کو ’’ہر ز ‘‘ میں بد ل دیا ہے۔ اور اس مصرع ’’از گناہ نیم سوزش آہِ من ‘‘ میں ’’سوزش ‘‘ کے لفظ کو ’’سوزاں ‘‘ میں بدل دیا ہے ۔ قرین قیاس یہی ہے۔





ما ز ما و منی جدا ماندہ
من و تُو رفتہ و خدا ماندہ

میں کہ ہم اور میں سے جدا رہ گیا
یہ من و تُو گئے اور خدا رہ گیا

٭

ہیچ نقشی نیست کز آئینہ رو پنہاں کند
دل کہ روشن شد کتابی دفتری در سینہ است

نقش چھپ سکتا نہیں ہے آئینے کی آنکھ سے
دل ہے شیشہ توکتابیں سینے میںموجودہیں




حدیثِ دل اگر گویم بصد دفتر نمی گنجد
کمال ِ وصفِ دل ہر گز بہ بحر و بر نمی گنجد

بیا اے طالبِ صادق بحال خویش خوش بنگر
کہ اُو در عالمی آمد کہ پا و سر نمی گنجد


حدیثِ دل اگر کہہ دوں تو سو دفتر ہیں کم پڑتے
بیاں جو وصفِ دل ہوں تو یہ بحر و بر ہیں کم پڑتے

ادھر آ طالبِ صادق ، آ اپنی خوش نصیبی دیکھ
تری آمد وہاں جس جا پہ پا ئ و سر ہیں کم پڑتے




گربنگرم جاں می رود جاں می رود چوں بنگرم
حیراں دریں کاری شدم یا جان دہم یا بنگرم

تجھے دیکھوں تو مر جائوں جو مرجائوںتو دیکھوں میں
اسی ہوں کارِحیرت میں تجھے دیکھوں کہ مر جائوں

٭

جان با جاناں بدہ اے جان من عارفاں را بس بود ایں یک سخن

جان اپنی جان پر قربان کر اے جانِ من
عارفوں کے واسطے کافی یہی ہے اک سخن







قدم بر جسم خاکی ،سرفرازی را تماشا کن
بایں پل چوںبر آئی آسماں در زیرپا باشد

قدم رکھ جسم پر اپنے کہ اونچائی دکھائی دے
جب اس پل سے تُو گزرے گاتو زیرِ پا فلک ہونگے









ز اہل مدرسہ اسرارِ معرفت مطلب
کہ نکتہ داں نشود کرمِ گر کتاب خورد

تُو اہل مدرسہ سے رازِ معرفت مت پوچھ
کتاب چاٹ لی دیمک نے نکتہ داں نہ ہوئی

صاحبان ِ مدرسہ سے معرفت ممکن نہیں
نکتہ داں بنتی نہیں دیمک کتابیں چاٹ کر
٭

اہل ِ دنیا را بہ غفلت زندہ دل پنداشتم
خفتہ دائم مُردگاںرا زندہ مر بیند بہ خواب

اہلِ دنیا زندہ دل ہرگز نہیں دھوکا ہے بس
رفتگاں زندہ دکھائی دیں ہمیشہ خواب میں



محبت است کہ دل را نمی دہد آرام
وگرنہ کیست کہ آسودگی نمی خواہد

محبت کرنے ہی دیتی نہیں آرام اس دل کو
وگرنہ کون ہے جس کو سکوں اچھا نہیں لگتا

٭

علم را آموز اول بعد ازں اینجا بیا
جاہلاں را پیش حضرت حق تعالی نیست جا

علم حاصل پہلے کر پھر آ یہاں میدان میں
بارگاہِ حق میں جاہل کی جگہ کوئی نہیں



باہو پردہ است مارا آں نماز
در حضوری غرق گشتم جاں بباز

زمین و آسمان و عرش و کرسی
ہمہ در تست پیدا از کہ پرسی
٭
حقیقت بد مردم من چہ پرسی
بدش بدکار آں کرسی بہ کرسی
٭
حقیقت ابتدا از من چہ پرسی
بہ بودی کن قلم نہ عرش و کرسی
٭
حقیقت فقر را از من چہ پرسی
فقر را زیرِ پائی عرش و کرسی

عین الفقر ترجمہ امیر خان نیازی میں یہ مصرع یوں درج ہے ۔۔باہو حقیقت بد مردم از من چہ پرسی۔


نمازیں پردہ کب کیا پوچھتے ہو
حضوری جاں بلب کیا پوچھتے ہو

زمین و آسمان و عرش و کرسی
تمہی میں ہیں یہ سب کیا پوچھتے ہو

بلندی کو رواں زینہ بہ زینہ
برے لوگوں کا اب کیا پوچھتے ہو

نہ تھے کُن اور قلم نہ عرش و کرسی
ازل کا تم نسب کیا پوچھتے ہو

ہیں زیر پا اس کے عرش و کرسی
ہے فقرِ بے طلب کیا ، پوچھتے ہو


اگر گیتی سراسر باد گیرد
چراغ مقبلاں ہرگز نمیرد

چراغے را کہ ایزد بر فروزد
ہر آنکس تف زند ریشش بسوزد
سعدی
٭
آنچہ از حق باز دارد دنیا زشت
آنچہ باحق می برد مزرعہ بہشت
٭
حمایت را کہن دامانِ درویش
ز صد سدِ سکندر درپیش
٭
عیسوی دم زندہ گرداند ز دل
ہر کہ زندہ دل شود ہرگز نمیرد
٭
نیم کباب کہ ہنگامِ سوختن گریم
چو کاغذیم کہ در سوزش است خندہ ئ ما

سارے جہاں کو چاہے مسخر ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

حق سے ملائے جو تجھے وہ آخرت ہے بس
دنیا وہ چیز جو تجھے حق سے جدا کرے

صد ہا سدِ سکندری بے مایہ ہیں وہاں
رحمت جہاں فقیر کی کہنہ قبا کرے

ملتی تھی دو گھڑی دمِ عیسیٰ سے زندگی
شامِ ابد تلک دلِ زندہ رہا کرے

باہو نہیں کباب کہ جلنے میں رو پڑے
کاغذ مثال باہو ہے جل جل ہنسا کرے



وسوسہ و وہم ہم خطراتِ’ بد
قوتِ قوت۔ نفس ’وہم‘ حرص و حسد

کی شناسد نفس را آں مردہ دم
کی شناسد نفس را اہلِ صنم

کی شناسد نفس را آں مرد عام
ہر کہ گوید نفس را عارف تمام

کی شناسد نفس را اہلِ غرور
قتل سازد نفس را اہل حضور

نفس را تحقیق کردم از خدا
ہر حقیقت یافتم از مصطفی

نفس ناری عاقبت چوں نورشد
قلب قالب ہر عضا منظور شد

ہر کہ فارغ ذکر فکرش شد حضور
می بر آ از نفس خود شو غرق نور

ابنیا ئ را نفس صورت ابنیائ
اولیائ را نفس صورت اولیائ

مردہ دل را نفس اخبث یا خبیث
گرچہ خواند بر زبان نص و حدیث

نفس شیطاں بد بلائی اہل زشت
نفس آدم را بر آورد از بہشت

گر تُو خواہی نفس را باخود رفیق
عرق شو دریائی وحدت بس عمیق


اس مصرع ’’می بر آ از نفس خود شو غرق نور‘‘ میں ’’ برآر ‘‘ کا لفظ تھا جسے ’’ بر آ ‘‘ رہنے دیا ہے یعنی ’’ ر‘‘ کو نکال دیا ہے





وسوسے بھی وہم بھی ،خطراتِ بد
نفس طاقت ور کریں حرص و حسد

مردہ دم پہچانے کیسے نفس کو
اک برہمن جانے کیسے نفس کو

خالی دامن جانے کیسے نفس کو
نفس آگہہ ،صاحب عرفان ہو

نفس آگہ ہو نہیں سکتا غرور
نفس تو ہے قاتلِ اہل ِحضور

ہے خدا اور نفس میں تفریق کیا
یہ کھلا مجھ پر طفیل ِ مصطفی

نفس ِناری ،نفسِ نورانی ہوا
دل ہوا منظور ِچشمِ مصطفی

ذکر بے مقصد،بجز اسمِ حضور
پا گیا جو ہو گیا وہ غرقِ نورِ

انبیا کے نفس جیسے انبیائ
اولیا ئ کے نفس جیسے اولیائ

نفسِ مردہ دل بلا کا ہے خبیث
ہو زباں پر چاہے قرآن و حدیث

نفس شیطانی بری خلقت سے ہے
نفسِ آدم کا سبب جنت سے ہے

نفس کا پھر تیری مرضی سے خرام
غرق ہو دریائے وحدت میں تمام



کس نہ پُرسد زمن خدا پرسی
تا رسانم بعرش و با کرسی

تو نے پوچھا ہی نہیں مجھ سے خدا کا ورنہ
میں تجھے دیکھتے ہی عرش پہ پہنچا دیتا

٭

کارِ جہاں چناں کہ تو خواہی اگر شود
ایماں نیاوری بہ خداوندِ کردگار

کارِ جہاں چلے تری مرضی پہ کیا کہ تْو
انکار کردے ہستی ئ پروردگار سے








بر درِ درویش رو ہر صبح و شام
تا ترا حاصل شود مطلب تمام

گر ترا بر سر زند سر پیش نہہ
آنچہ در ملک است با درویش دہ

دادہ ئ درویش یابی جاوداں
از نظر درویش شد شاہِ جہاں

ہر کہ مقبول است درویش از نظر
شد مراتب او ز بالا عرش تر








جا درِ درویش پر جا صبح و شام
تاکہ ہو حاصل تجھے مطلب تمام

سر جو مانگے تو اسے سر پیش کر
اپنی ساری ملک جاکر پیش کر

واپسی خْو ہے سخاوت کیش کی
شہ بنا دے اک نظر درویش کی

اْس نظر میں جس کااعلی مرتبہ
عرش سے اس کا ہے بالا مرتبہ












ہر کہ فی اللہ گشت فانی با خدا
جاں گذشت و آنچہ بیند شد روا

عقل و فکرش کی رسدفی اللہ جمال
معرفت دیدار را گویند وصال

جز بقا یش معرفت منظور نیست
عارفاں را جز خدا منظور نیست

ہر کہ ایں جائے نہ بیند دل سیاہ
حب دنیا دل سیاہی سرِ گناہ








جاں سے گزرکے دیکھنا اْس کا روا ہوا
جو بھی خدا میں گم ہوا وہ باخدا ہوا

فکر و خرد میں آتا جمالِ خدا نہیں
دیدار ِ معرفت تو وصالِ خدا نہیں

عرفان و معرفت نہیں منظور جز بقا
کچھ اور چاہتا نہیں عارف بجز خدا

جس کی نظر خدا پہ نہیں وہ نہیں ہے دل
دنیا کی حب ہے جس میںسیاہی نشین ہے دل








آں چشم ِدل دیگر بود بیند روا
نہ کہ ایں چشمی بود با سر ہوا

٭

وہ دل کی آنکھ اور بصارت ہے جسکے پاس
یہ بوالہوس نگاہ تو حرص و ہوا ہے بس









آں زباں دیگر بود باحق بیاں
ایں زبانِ لاف زن دیگر بہ داں

٭

جس کابیاں مشاہدہ ِحق ، زباں ہے اور
یہ لاف زن زبان ہے اس کا بیاں ہے اور














صاحب سری بود بی سر مدام
آں سرِ دیگر بود باحق کلام

آں سرِ را غرق با ہمدم خدا
عام سرِ دیگرکہ است با سر ہوا

گر بگویم سرِ روز ہر چہ ہست
دفتری باید رقم روزِ الست

گر تُو خواہی از خدا اسرارِہو
آنچہ باشد غیرحق از دل بشو

بعد ازاں لائق شوی رازِ الہ
ہردمِ جان و جگر سوز الہ



جس میں کمال ِکشف ِخدائی ہے سر وہ اور
جو ہمکلام ِ ذاتِ الہی ہے سر وہ اور

وہ اور ہے جو قربِ الہی میں غرق ہے
جس میں ہوس نژاد برائی ہے سر وہ اور

میں رازداں کے راز بیاں کرنا چاہوں تو
دفترضروری ہیں مجھے روزِ الست کے

تْو چاہتا ہے اس سے جو اسرار ہْو توپھر
جو حق کا غیر ہے اسے دل سے نکال دے

ممکن ہے اس کے بعدشعورِالہ ملے
جان و جگر کو سوزِ ظہورِ الہ ملے



تراگر بہشت ِ بریں آرزو ست
گذر در پئی آرزوئی ہوا

تری گر بہشت ِ بریں آرزو ہے
حدز کر توحرص و ہوا کی طلب سے

٭

ہرکہ ہوا را بند کند
عارفِ حق ، حق باشد

جس نے حرص و ہوس سے کنارا کیا
صرف عارف وہی واصل ِحق ہوا





مرد آں باشد کہ باشدغرقِ نور
کی رسد با نور ایں اہلِ غرور

فتنہ و فریاد دائم در طلب
ایں مراتب نیست لائق اہل ِکذب

دعوی کردند جیفہ ہم کلب وار
از میان عارفاں کلبش برآر

باہو از بہرِ خدا عارف نما
معرفت حاصل شود از مصطفی






مرد ہے وہ شخص جو ہو غرقِ نور
نورتک پہنچیں کہاں اہلِ غرور

ہے طلب فتنہ، ازل آباد سے
یہ مراتب کب دورغ ایجاد کے

فقر کا دعوی کریں جو اہلِ مال
عارفوں سے ایسے کتوں کو نکال

باہو عرفان ِالہی کی کلی
مصطفی سے معرفت جس کو ملی





دیدہ باید لائق ئ دیدارِ او
ایں ندیدہ درطلب مُردارجو

کور چشمی کی بہ بیند آفتاب
کور را از آفتابش صد حجاب

٭


چاہئے بس لائق دیدار آنکھ
وہ نہیں جو ڈھونڈے ہے مردار ،آنکھ

کور چشمی کیسے دیکھے آفتاب
اندھے پن کو روشنی سے سو حجاب


دین بر دین محمد شد قوی
قاتل الکفار اصحابش نبی
برگزیدہ از عباداللہ الہ
شاہ اورنگ زیب غازی بادشاہ


٭


دین ِ برحق ، دین ِ مصطفوی ہوا اس سے قوی
وہ ہے قاتل کافروں کا۔۔مثلِ اصحابِ نبی
انتہائے بندگی سے۔۔۔۔ برگزیدہ بادشہ
جو ہے غازی ،شاہ اورنگ زیب ایسا بادشہ

یہ مصرع کلید توحید ﴿ کلاں ﴾ میں یوں درج ہے’’ دین بر دین محمد شوی قوی‘‘





مرشدِ کامل برد در ہر مقام
مرشد ِ نا مرد طالب ِزر تمام

مرشدِ کامل دکھائے سب مقاماتِ کمال
مرشدِ نامرد کا مقصد حصولِ زر و مال
٭
طالباں را بس بود ایں راہ پند
راہِ مرداں شد حضوری ہوش مند

طالبوں کے واسطے کافی ہے اِس عقدہ کی راہ
ہوش مندی میں حضوری مردِتسمہ پاکی راہ








ہر کہ از دل کشاید چشم نور
شد حضوری مصطفی رست از غرور

٭

جس کے دل کی چشمِ نور آباد کھل جائے وہی
بزم مصطفوی میں آکر ذات دھل جائے وہی










زندہ قلبش مردہ قالب زیرِ خاک
خاکی از قالبئ زندہ ذکرِ پاک

قبر ایشاں خلوت است خلوت گزیں
غرقِ وحدت حق شدہ حق الیقیں

٭

جسم مردہ ہے مگر دل ہے زندہ زیرِ خاک
بلکہ جسمِ خاک زندہ ہو بفیضِ ذکرِ پاک

قبر وہ عرش ِحضوری اور وہ خلوت نشیں
غرقِ وحدت ہوکے پائے رتبہ ئ حق الیقیں









ابتدائ توحید آخر نور شد
ذکر با مذکور آں مغفور شد

٭

اولاً توحید حاصل آخرش نورِ مبین
ذکر مل کر صحبتِ مذکور میں بخشا گیا









رفت قلبش رفت روحش رفت نفس سر ہوا
نور بود و نور باشدعرق فی اللہ با خدا

٭

دل گیا اس شخص کا پھر روح بیگانہ ہوئی
گم ہوئے حرص و ہوااورنفسِ امارا گیا

نور تھا اور نور ہونا تھا اْسے اِس واسطے
غرقِ ذاتِ حق ہوا اور باخدا ہوتا گیا


ایک شعر کا ترجمہ دو اشعار میں کیا گیا ہے


شد مطالب دیدنِ رو مصطفی
شد حضوری غرق فی اللہ باخدا

ذکر رجعت دعوتش دیوانگی
سکر مستی خام تر بیگانگی

گرتُو خواہی دائما باشی حضور
ہم نشینِ قبر شو ز اہلِ قبور

باہو بہر از خدا حاضر نما
با تصور اسم اللہ شو فنا







دیکھنا دراصل ہے روئے نبی کا دیکھنا
غرقِ حق ہونا یہی ہے باخدا ہونا ہے یہ

ذکر میں بیگانگی ہے سکر ہے دیوانہ پن
مبدائ فیاض سے بس منقطع ہونا ہے یہ

چاہتا ہے حاضری گر مجلسِ لولاک میں
ہم نشینِ قبر بن اہل قبورِ پاک میں

اب دکھائی دیتا ہے باہو فقظ بہر خدا
وہ تصور اسم اللہ سے فنا ہے ہو چکا









اسم اللہ بس گراںاست بے بہا
ایں حقیقت را بہ داند مصطفی

٭

اسمِ اللہ کی گرانی بے حساب و بے بہا
یہ حقیقت جانتے ہیں بس محمد مصطفی


ذکر ہم دوریست شو در غرقِ نور
در نظر نبوی شوی دائم حضور
٭
یہ مٹادے فاصلہ بھی ذکر کا
غرق ہوجا نور کے انوار میں
تاکہ اک دائم حضوری مل سکے
چشمِ نبوی کے حسین دربار میں









زبہرزر چرا تو دلق پوشی
زبہر زر چرا دائم خموشی

زبہر زر چرا عرفاں مکانی
ز بہر زر چرا درویش خوانی

زبہر زر چرا گریاں کشائی
زبہر زر چرا صورت صفائی

زبہر زر چرا خلوت نشینی
زبہر زر چرا خوش خواب بینی

زبہر زر چرا اللہ فروشی
زبہرچرا غوغا فروشی

زبہر زر چرا نقشی بدانی
زبہر زر چرا تسبیح خوانی

زبہر زر چرا علم فضیلت
زبہر زر چرا دنیا و سیلت

زبہر زر چرا تو شاہ طلبی
زبہر زر چرا تو ذکر قلبی

زبہر زر چرا تو انتظاری
ز بہر زر چرا ہر در بخواری

باہو را نیست طلبش زر بدانی
کہ غرق معرفت باحق وصالی



ہروقت یہ خموشی زر کیلئے ہے کیوں
آخر یہ خرقہ پوشی زر کیلئے ہے کیوں

یہ خانقاہِ عرفاں زر کیلئے ہے کیوں
درویشی کا یہ ساماں زر کیلئے ہے کیوں

اتنی یہ آہ وزاری زر کیلئے ہے کیوں
صورت بنائی پیاری زر کیلئے ہے کیوں

خلوت نشینی تیری زر کیلئے ہے کیوں
خوش خواب بینی تیری زر کیلئے ہے کیوں

اللہ فروشی آخر زر کیلئے ہے کیوں
شہرت کا شورِ وافر زر کیلئے ہے کیوں

یہ نقش بندی تیری زر کیلئے ہے کیوں
تسبیح کی پھریری زر کیلئے ہے کیوں

یہ علم کی فضیلت زر کیلئے ہے کیوں
وہ حشر کی مصیبت زر کیلئے ہے کیوں

تیری مقام طلبی زر کیلئے ہے کیوں
تیرا یہ ذکرِ قلبی زر کیلئے ہے کیوں

یہ راہِ انتظاری زر کیلئے ہے کیوں
یہ دربدر خواری زر کیلئے ہے کیوں

خالی طلب سے زر کی ساد ہ ورق باہو
وہ غرقِ معفرت وہ مشغولِ حق باہو








ذکر سری روح آید در قلب
عارفاں را کشف گردد رازِ رب

ہرکرا شد ذکر روحی در دماغ
خواب ِ غفلت رفت، سوزش درد داغ

یا الہی سوز دہ ایں سوز بہ
گر کسی از سوز ترسد من بدہ










روح سے ہوتا ہے دل پہ ذکر سری کا نزول
عارفوں پہ ہے یہی رازِ الہی کا نزول

خوابِ غفلت میں نہیں،ہے وہ سلگتاداغِ درد
ذہن پہ جس کے ہوا ہے ذکرِ روحی کا نزول

کوئی ڈرتا ہے تو وہ بھی سوز مجھ کو بخش دے
یاالہی مجھ پہ کر سوزِ حقیقی کا نزول









انتہائے عارفاں است غرقِ نور
نیست آنجا عقل و فکرِ با حضور

ذکر و فکر و علم ہر سہ شد حجاب
آب با دریا رسد دریا با آب

فی امان اللہ دھد نورش خدا
نور سرِش راز ِ وحدت کبریا








انتہائے عارفاں ہوجانا ہے بس غرقِ نور
اس جگہ ممکن نہیںہے پہنچے فکرِ باحضور

ذکر و فکر و علم تینوں راستے کے ہیں حجاب
آب دریا میں پہنچتا ہے تو کہلاتا ہے آب

نور کے اسرار میںاسرارِ وحدت ہیں عیاں
نورِ حق ملتا ہے اس کو جس کو اللہ کی اماں









ذکر و فکر و صحو و سکر با خیال
باز دارد غرقِ وحدت از وصال

کرد دعوی مدعی بر خویشتن
جان مردہ ، زندہ نفسی لاف زن

عارفاں را چشم از دل بابصر
چشم ِ ظاہر داشتن چوں گا و خر

کی تواند کشت نفس دیو زشت
داد آدم را ہلاکت در بہشت





یہ خیالِ ہوش و مستی،یہ گمانِ فکر و ذکر
ہیں وصالِ نورِوحدت سے جدائی کا سبب

وہ بزعم خویش جھوٹے مدعی ہیں فقر کے
جانِ مردہ ، نفسِ زندہ ہے بڑائی کا سبب

چشمِ ظاہر کا ہے کیا کہ رکھتے ہیں سب گائو خر
چشمِ دل ہے عارفوں کی خوش نگاہی کا سبب

راندہِ جنت ہوا آدم وہ جس کے ہاتھ سے
روشنی ، اُس نفسِ بدخُو کی تباہی کے سبب






آفریں صد آفریں اے نفسِ یار
نفس را توفیق بخشد کردگار

سرِ نورِ حق بود اسرارِ راز
ہر کہ صاحب راز فقرش بے نیاز

ناتوانی سرِ رازی را بہ پوش
معرفت حق کی رسد ایں خود فروش

سرِ قرآں است رازش مصطفی
سرِ نہ بودی کس نہ گفتش جز الہ







آفریں سو بار تجھ پہ آفریں اے نفسِ یار
جو ملی توفیق تجھ کو ، ہے عطائے کردگار

سرِ نورِ حق ہے کیا اسرار، رازِ فقر ہے
صاحبِ اسرار جو ہے بے نیازِ فقرہے

جتنا ممکن ہے توُ رکھ رازِ الہی پردہ پوش
زیب دیتا ہی نہیں کہِ اہلِ حق ہو خود فروش

سرِ قرآں ہے محمد مصطفی کا ایک راز
جز خدا یہ ہو نہیں سکتے درِ اسرار باز






نفس دانی چیست دیوی بس بزرگ
بر مسلماں تاختہ مانند گرگ

روح دانی چیست امر حق گذار
مطلع وی نیست جز حق کردگار

قلب دانی چیست گنجِ معرفت
از لطیف غیب شد در وی صفت

علم دانی چیست راہ دریافتن
بس بداں رہ سوی حق بشتافتن

عقل دانی چیست نور روشن است
تیرگیِ دل از آں روشن تر است
جذب دانی چیست بودن سوے دوست
مسکنِ خود ساختن در کوئے دوست

قال دانی چیست دائم ذکرِ دوست
مشتغل بودن در آں در فکر دوست

حال دانی چیست در حق گم شدن
سر بہ یک باری ازیں عالم زدن

صحو دانی چیست راہ پیمودن است
ہر زماں باسالکاں آسودن است

سہو دانی چیست مرگ معنوی
ہر زماں سوئی عدم دریا شوی

انس دانی چیست استغفارِ غیر
فارغ آید از سوادِ شر و خیر

کشف دانی چیست دیدن آں جمال
محو گشتن در جمالِ ذوالجلال

سکر دانی چیست باشی مست وی
نیست گر وی بعد از آں در ہست وی

ذوق دانی چیست خود را سوختن
شوق دانی چیست خود را درزدن










نفس کیا ہے ایک شیطانِ بزرگ
وار مسلم پر کرے یہ مثلِ گرگ

روح کیا ہے امرِ ربانی ہے روح
یعنی کوئی رازِ سبحانی ہے روح

قلب کیا ہے معرفت کا مال گاہ
غیب کے الطاف کی تمثال گاہ

علم کیا ہے راہِ حق ملنے کا نام
اور پھر اس راہ پر چلنے کا نام

عقل کیا ہے ایسا روشن نور ہے
جو سیاہی دل کی روشن تر کرے

جذب کیا ہے رہنا ہے ہم راہ ِ دوست
ہے ٹھکانا در محبت گاہِ دوست

بات کیا ہے بات ہے بس ذکرِ دوست
اور کرنا ہے مسلسل فکرِ دوست

حال کیا ہے حق میں گم ہونا ہے بس
اور فورا غیب میں کھونا ہے بس

ہوش کیا ہے راہ پیمائی ہے بس
خدمت ئ خلقت کی رعنائی ہے بس

سہو کیا ہے معنوی اک مرگ ہے
یعنی دریائے عدم کو چل پڑے

انس کیا ہے ایک استغفارِ غیر
بے تعلق یہ سوادِ شر و خیر

کشف کیا ہے دیکھنا ہے بس جمال
اور رہنا محوِ حسنِ ذوالجلال

سکر کیا ہے دید کی مستی رہے
اور کجا واں اپنی نہ ہستی رہے

ذوق کیا ہے آگ میں جلنا ہے ذوق
شوق کیا ہے عشق میں مرنا ہے شوق







شد تجلی از حقیقت بردلم انوار شد
ہم جلیس بامحمد ہم مجالس چار شد

جلوہ ئ زان نورِ ذاتی عارفاں را شد نصیب
جاودانی گشت روشن معرفت اظہار شد

کور چشمی اہل ظلمت منکر از نورِ خدا
نورِ حق را کی بہ بیند اہل ناری خوار شد

مردہ نفسی زندہ دل در خواب بیند مستدام
مردہ دل زاں بے خبرجاں زندہ دل بیدار شد

باہو آں را کی تواندبست صورت بے مثال
عارفِ غواصِ وحدت طالبِ دیدار شد



دل تجلی سے بھرا ہے طور ہے انوار کا
میں محمد کا مصاحب ، ہم مجالس چار کا

جلوہ ہائے نور ذاتی عارفوں کو ہیں نصیب
سلسلہ یہ معرفت کے جاوداں اظہار کا

منکرِ نورِ خدا کی آنکھیں ہوتی ہی نہیں
اہل دوزخ کیسے دیکھیں چہرہ صبحِ یار کا

مردہ نفس و زندہ دل کرتے رہیں دیدارِ خواب
مردہ دل لاعلم اس سے، زندہ دل بیدارکا

باہو دنیادار دیکھیں کیا وہ شکلِ بے مثال
عارفِ غواض ِ وحدت ملتجی دیدار کا



بذکر ہو کشد باہو نہ مرد است
کہ ذکرِ واصلاں آورد برد است
حدیث
اللہ کے ذکر کے بغیر جو سانس نکلے وہ مردہ ہے


ذکرِ ہو میں یہ مشغول باہو کہاںمردہ ہے
ذکرِہو کے بجز سانس جو ہے رواں مردہ ہے

ذکرہر سانس کی آمد و شد سے واصل کریں
وردِ اللہ جس پہ نہیں وہ زباں مردہ ہے




در جہانش کم بود بے غم بود
غم مرا غم می برد غم غم خورد
٭
غم دنیا و عقبی رفتہ از دل
چوں پیش وحدت آمدراہ مشکل

فنا فی اللہ شوم در لا مکانی
کہ نظرش برکشم از جاودانی

کہ سینہ ئ عارفاں سرِ الہی
ترا واقف کنم از حق آگاہی

مرا غم نیست رہبر پیش راہ است
کہ دستم دامنش بر مصطفی است

اس مصرع ’’مرا غم نیست رہبر پیش راہ است‘‘ میںباہو کا لفظ نکال کر مرا لگایا ہے



غم مرا کھا گیا سب الم کھینچ کر
ذکر اللہ کیا دل سے دم کھینچ کر

مشکلیں راہِ وحدت کی سب لے گئیں
دل سے دنیا و عقبی کے غم کھینچ کر

لامکاں میں فنا ہو گیا ہوں کہ میں
پاس رکھ لوں نگاہِ کرم کھینچ کر

سینہ ئ عارفاں رازِ ربانی ہے
آ تجھے دوں میں نقشِ عدم کھینچ کر

دامنِ مصطفی پہ ہے باہو کا ہاتھ
پیش ِ راہ لے گیا راہِ غم کھینچ کر



اسم اللہ بس گراں است باربر
اسم را برداشت فقرش زود تر

اللہ اللہ گفت مردم خاص و عام
ہر کہ کنہش یافتہ عارف تمام

اسم اللہ بر زباں گردد رواں
ہر کہ یابد کنہ اللہ شد عیاں

ابتدائ اللہ اللہ انتہا
از تصور اسم اللہ شد لقا

باتصور ذات بر داتش نگر
تا شوی عارف خدا صاحب نظر



جو برداشت کرلے گراں باری ئ اسمِ اللہ
اسے فقر بخشے کرم کاری ئ اسمِ اللہ

بہت سے ہیں کرتے خواص و عوام اللہ اللہ
وہ عارف ہے جس کو سزاواری ئ اسم اللہ

رواں اسم ِ اللہ ہزاروں زبانوں پہ لیکن
عیاں اس پہ اللہ جو درباری ئ اسم اللہ

ہے اسم الہ کے تصور سے دیدار ممکن
ازل سے ابد تک جہاں داری ئ اسم اللہ

وہی صاحبِ چشم عارف وہی جو ہمیشہ کرے
خدا کا تصور بہ دیداری ئ اسم اللہ






نیست آرام درآں دل کہ ہوس بسیار است
گل شود غنچہ درآں باغ کہ خس بسیار است

دلِ بی وسوسہ از گوشہ نشینان بہ طلب
کہ ہوس در دل مرغان قفس بسیار است

ازبداں فیض محالست بہ نیکان برسد
حق بیداریِ دزدان بعبس بسیار است










دل کو آرام کہاں دل میں ہوس ہے آباد
گل وہاںغنچہ ہے جس باغ میں خس ہے آباد

دلِ بے وسوسہ از گوشہ نشینانِ طلب
کہ ہوس در دلِ مرغان قفس ہے آباد

فیض نیکوں کو بروں سے ملے یہ ناممکن
شب بیداری تو چوروں میں عبث ہے آباد






پشت ِ پا زن بر دو عالم تا فلک پیما شوی
از سرا دنیای دون برخیز تا رعنا شوی

ترک کبر و عُجب کن تا قبلہ ئ عالم شوی
خصلت ِ ابلییس را بگذار تا آدم شوی


٭

پائوں رکھ پشتِ دوعالم پہ فلک پیمائی کر
چھوڑ کر خواہشِ دنیا، صحبتِ رعنائی کر

ختم جو خصلتِ ابلیس کرے آدم وہ ہے
ترک کر کے یہ تکبر تُو جہاں آرائی کر






زاہدا از بیم ِ دوزخ چند ترسانی مرا
آتشے دارم کہ دوزخ نزد او خاکستریست

کیا جنہم سے ڈراتے پھر رہے ہو زاہدو
میری آتش کے مقابل راکھ ہے دوزخ کی آگ










باہو نماندہ پردہ نفس و ہوا
چوں آمد در دلم وحدت خدا

باہو آں شفیع ، نبی دستگیر
ہر دمی می کنشد باہو فقیر

باہو ہر طرف رویش آوردہ او
سوختہ آں را آنچہ بودی غیر او

باہو بروز آمد چوں رفت تاریکی
گشت روشن از ظلمات تفریقی

حال دنیا سر بسر بپرسیدم از فرزانہ
گفت یا خوابیست یا خیال است یا افسانہ






وجودِنفس کہاں پھر کہاں ’ہوا‘ باہو
در آئے دل میںجو توحیدِ کبریا باہو

وہ دستگیر وہ شافع مرے کہ جن کا خیال
مجھے ہے سانس کی مانند کھینچتا باہو

میں مردہ ہوں مجھے زندہ جہاں سے ہونا ہے
وہیں پہ اپنی توجہ رہی سدا باہو

وہ ہوکی آگ ملی نورِ وحدتِ کل سے
کہ جس نے غیر کو پورا جلا دیا باہو

اندھیرے چاک ہوئے روشنی نکل آئی
ہر ایک فرق کا اظہار ہو گیا باہو

خیال ہے کہ فسانہ یا خواب ہے دنیا
یہ ایک دانشِ آسودہ نے کہا باہو

















اسم اللہ آید خود نماند درمن
ہم او گشت سرتاپای جان وتن

اسم اللہ را ردای پوست تن
اسم اللہ گشت یکتا جان وتن

اسم اللہ چیست دانی عین حق
برزبانش انسا وجن ہم ملک
٭
ہرکہ جانِ خود را فروخت اسم اللہ خرید
ہر کہ اسم ساللہ خرید بعین العیان دید
٭
ہرکرا با اسم اللہ شد قرار
ہرچہ باشد غیراللہ زاں فرار
٭
عشق را بامِ بلند است اسم اللہ نردباں
ہر مکانے بے نشانے می برد در لامکاں



















نہ رہا، مجھ میں جو وارد ہوا اسمِ اللہ
باہوا! روح و بدن ہو گیا اسمِ اللہ

ایسی یکتائی دی اس نام سے جسم وجاں کو
کھال کی شال میں لپٹا دیااسمِ اللہ

جن و انسان و ملائک نے یہی ورد کیا
صرف ہم نے نہیں خود اس نے کہا اسمِ اللہ

اک دکھاتا ہے وہی عین عیانی کا مقام
بیچ کے جاں کو خریدا ہوا اسمِ اللہ

اس کے نزدیک سے کوئی غیر کہاں ممکن ہے
جب کسی شخص نے اپنا لیا اسمِ اللہ

لامکاں تک یہی عشاق کو پہنچاتا ہے
عشق کے بام کا زینہ رہا اسم اللہ













پیکر من از توحیدش شد توھیدش در توحید
عین زاں توحید مطلق لاسوی دیگر نہ دید

برد بالا عرش و کرسی با شریعت شاہراہ
ہر مقامش خوش بدیدم سرِ وحدت از الہ

ز ہر حرف توحید بینی ہر سطر توحید بیں
باش دائم در مطالعہ تا شوی حق الیقیں

مسلسل جب رگ و پے میں رواں توحید ہوتی ہے
فقط توحید ِ بے صورت بہشت ِ دید ہوتی ہے




باہو نماندہ پردہ نفس و ہوا
چوں آمد در دلم وحدت خدا

باہو آں شفیع ، نبی دستگیر
ہر دمی می کنشد باہو فقیر

باہو ہر طرف رویش آوردہ او
سوختہ آں را آنچہ بودی غیر او

باہو بروز آمد چوں رفت تاریکی
گشت روشن از ظلمات تفریقی

حال دنیا سر بسر بپرسیدم از فرزانہ
گفت یا خوابیست یا خیال است یا افسانہ







وجودِنفس کہاں پھر کہاں ’ہوا‘ باہو
در آئے دل میںجو توحیدِ کبریا باہو

وہ دستگیر وہ شافع مرے کہ جن کا خیال
مجھے ہے سانس کی مانند کھینچتا باہو

میں مردہ ہوں مجھے زندہ جہاں سے ہونا ہے
وہیں پہ اپنی توجہ رہی سدا باہو

وہ ہوکی آگ ملی نورِ وحدتِ کل سے
کہ جس نے غیر کو پورا جلا دیا باہو

اندھیرے چاک ہوئے روشنی نکل آئی
ہر ایک فرق کا اظہار ہو گیا باہو

خیال ہے کہ فسانہ یا خواب ہے دنیا
یہ ایک دانشِ آسودہ نے کہا باہو

















اسم اللہ آید خود نماند درمن
ہم او گشت سرتاپای جان وتن

اسم اللہ را ردای پوست تن
اسم اللہ گشت یکتا جان وتن

اسم اللہ چیست دانی عین حق
برزبانش انسا وجن ہم ملک
٭
ہرکہ جانِ خود را فروخت اسم اللہ خرید
ہر کہ اسم ساللہ خرید بعین العیان دید
٭
ہرکرا با اسم اللہ شد قرار
ہرچہ باشد غیراللہ زاں فرار
٭
عشق را بامِ بلند است اسم اللہ نردباں
ہر مکانے بے نشانے می برد در لامکاں



















نہ رہا، مجھ میں جو وارد ہوا اسمِ اللہ
باہوا! روح و بدن ہو گیا اسمِ اللہ

ایسی یکتائی دی اس نام سے جسم وجاں کو
کھال کی شال میں لپٹا دیااسمِ اللہ

جن و انسان و ملائک نے یہی ورد کیا
صرف ہم نے نہیں خود اس نے کہا اسمِ اللہ

اک دکھاتا ہے وہی عین عیانی کا مقام
بیچ کے جاں کو خریدا ہوا اسمِ اللہ

اس کے نزدیک سے کوئی غیر کہاں ممکن ہے
جب کسی شخص نے اپنا لیا اسمِ اللہ

لامکاں تک یہی عشاق کو پہنچاتا ہے
عشق کے بام کا زینہ رہا اسم اللہ


















مائل جیفہ کہ باشد جز سگی
کینہ وری بیخبری و بدرگی

طالبِ دنیا زسگ کمتر است
ظاہر او گرچہ بہ جاہ فراترست

باطنش آلودہ بہ پندار ِ او
خلق سگے ظاہر ازدیار ِاو

باغضب و شہوت و حرص و ہوا
سیرتِ او چوں دوآدم نما

سیم و زرش قبلہئ آرام او
گائو صفت ،خواب وخورش کام او

روز شبش صرف بہ غفلت مدام
با زن و بچہ و با دل گشتہ رام

رفت از یادش غم نزعِ ممات
غافلِ معزول ز راہ نجات

علم صفت ما و توئی را گرفت
رنگ دو بینی دو دوئی را گرفت

صاف دلی نہ شنیدد نہ دید
تیرہ دلی را از رخ او ندید

خانہ ئ عمر تو بود بردمی
بہر دمی می طلبی عالمی

بہردمے ایں ہمہ شر وفساد
ہفت ہزاری شدنت اجتہاد

حیف برایں دانش وآئین تو
کورشدہ دیدہِ حق بین تو

دنیا خوار را جواب خوارتر
معلون است در نظرعارفاں بابصر

حب دنیا دل گرفت از سرہوا
دل زحب دنیا رود عارف خدا

۔۔









کینہ پرور دوغلہ بدکارہے
مثلِ سگ وہ مائل مُردار ہے

طالبِ دنیا ہے کتوں سے حقیر
ظاہراً دانا ہے عزت دار ہے

روح ہے لتھڑی انا کے حیض سے
طاہراً مخلوق کا وہ یار ہے

حرص و شہوت میں گندھی ہیں دھڑکنیں
ظاہراً بس صاحبِ کردار ہے

مثل گائو ، کھائیگا سوجائیگا
سیم و زر کا وہ عبادت کارہے

روز و شب غفلت میں ڈوبے ہیں تمام
عورتوں اور لونڈوں کا دلدار ہے
یاد آتی ہی نہیں ہے موت کی
عاقبت سے غافل و بیزار ہے

صاف دل اس نے سنا دیکھا نہیں
سن لیا تو دید سے انکار ہے

کیا تجھے زر کیلئے جیون ملا
یہ تریِ عمرِ روں بے کار ہے

یہ تری دولت نہیں فضل و کمال
یہ فساد خِلق کا اظہار ہے

حیف تیری دانش و بینش پہ اب
دیدہ ئ حق ، دیدہ ئ شب دار ہے

عارفوں کی آنکھ میں معلون تر
طالبِ دنیا ہمیشہ خوار ہے

اس کو عارف ہی بدل سکتا ہے بس
جو گرفتِ نفس کا حب دار ہے
۔۔



















باہو سے ماخوذ





















بے کرانی ، نور سے پُر اور میں
اسمِ اللہ کا تصور اور میں

دور تک حسنِ عدم آباد میں
لامکانی کا تحیر اور میں

منحرف دنیا سے ، اللہ سے وصال
ذکرِ سری کا تاثر اور میں

اک سمندر نور کا پھیلا ہوا
اک سکوت آور تغیر اور میں

ہیں مقابل چشمِ باہو کے طفیل
نفس کا جرمِ تکاثر اور میں

























یہ علم یعنی حرفِ شرف کیش کی کتاب
کاغذ بغیر لکھی ہوئی زندگی کتاب

اُس کا مطالعہ کیا بے صوت و بے زباں
جو مشق کلمہ ناف سے سر تک بنی کتاب










وردِ’ہو‘ کرتے رہو روح میں باہو کی طرح
خود کو محسوس کرو گے کبھی یاہو کی طرح

میرے سینے سے نکلتی ہیں الوہی کرنیں
جسم میں گونجتی ہے ایک صدا ہو کی طرح

میں کہ باہو کی قسم مردہ نہیں ہو سکتا
سانس میں جاری رہے ذکرِ الہ ہو کی طرح

پھر سنائی دی اناالحق کی صدا پتوں سے
لگ رہی ہے مجھے پھر بادِ صبا ہو کی طرح

میرے سلطان میرے باہو کرم کہ منصور
دشت میں ہے کسی مجروح سے آہو کی طرح








وردِ دل اللہ ہو ، وردِ زباں اللہ ہو
اسمِ جاں اللہ ہو جانِ جہاں اللہ ہو

ایک ہی آہنگ میں موجِ صبا کے ساتھ ساتھ
کہہ رہا ہے صبح دم آبِ رواں اللہ ہو

گونجتا ہے اس لئے دائود سے باہو تلک
نغمہ ئ ہو کے تکلم میں نہاں اللہ ہو

عابدوں کا اپنا تقوی ، زاہدوں کا اپنا زہد
رندِ درد آمیز کی آہ و فغاں اللہ ہو

لفظِ ہو میں گم ہواہے ہست کا سارا وجود
یہ زمیں اللہ ہو یہ آسماں اللہ ہو

خاک اور افلاک کو واپس بھی لے سکتا ہے وہ
ہیں جہاں دونوں فنا اک جاوداں اللہ ہو

قبر کی دعوت میں باہو کہہ گیا منصور سے
جس کا میں شہباز ہوں وہ لامکاں اللہ ہو














جو خط لکھا نہیں اسے رسوا کرو گے کیا
سادہ دلوں کا نامہ ئ قسمت بھرو گے کیا

کیا دیکھتے ہو مردہ بدن کو اے زندہ دل
پھر نفس کے محاذ پہ جا کر مرو گے کیا

رہنے دو میری قبر کو بے نام ، بے نشاں
ِاس نور کے وجود پہ پتھرو دھرو گے کیا

تم تو سگ مدینے ہو ، باہو کے شیر ہو
بدذات مولوی کی زباں سے ڈرو گے کیا

اے صاحب خرد! تری کامل سہی دلیل
بعد از ممات وہ جو ہوا تو کرو گے کیا





















No comments:

Post a Comment